کیلسیم کی کمی کو کیسے پورا کیا جائے؟

کیلسیم کی کمی کو کیسے پورا کیا جائے؟

 

Read in English 

 

کیلسیم ہمارے جسم میں سب سے کثیر تعداد میں پایا جانے والا منرل ہے اور یہ بہت سی اشیاء میں موجود ہوتا ہے۔ ذیادہ تر افراد سمجھتے ہیں کہ اس کا واحد کام ہڈیاں بنانا اور ان کی صحت کو برقرار رکھنا ہے جبکہ اس اہم منرل کے اور بھی کئی چیدہ چیدہ سے کام ہیں جیسا کہ دل کو تقویت بخشنا، پٹھوں میں کھچاوء برقرار رکھنا، اعصابی نظام میں برق رفتار ویوز پیدا کرنا اور صحت مند دانتوں کا حصول قابل ذکر ہیں۔ جسم کی خود کیلسیم بنانے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث اسے بیرونی ذرائع سے حاصل کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیلسیم سے بھرپور غذائیت میں ناشتے میں پھلوں کے تازہ جوس، ہرے پتوں والی سبزیاں اور دودھ اور متعلقہ ڈیری کی اشیاء مثلا دہی، اور پنیر وغیرہ شامل ہیں۔ کیلسیم کو سپلیمنٹ کے طور پر مختلف اشیائے ضرورت میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ کیلسیم کی روزانہ درکار مقدار بندے کی عمر اور جینڈر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ 

 

وسیع تحقیق کے بعد کیلسیم کی کمی لاحق کرنے والے خدشاتی عناصر کا پتہ لگایا گیا ہے۔ ادھیڑ عمر کی خواتین، ماہواری ختم ہونے کے بعد کی عمر یا جن خواتین میں کسی بھی وجہ سے ماہواری آنا وقتی طور پر بند ہو جائے ان خواتین میں کیلسیم کی کمی ترجیحی طور پر جلدی ہو جاتی ہے۔

 

تاہم مردوں میں بھی اس کی کمی ہو سکتی ہے خصوصا ان لوگوں میں جو لیکٹوز سے حساسیت اختیار کر چکے ہیں اور وہ لوگ جو صرف سبزیاں کھاتے ہوں۔ اگر آپ میں سے کوئی موخر الذکر مسائل کا شکار ہے تو کیلسیم کی کمی کو ضرور ملحوظ خاطر رکھے۔ پیچیدگیاں (اوسٹیوپوروسز، پٹھوں اور دانتوں کی کمزوری) پیدا ہونے سے بچنے کیلئے گھریلو سطح پر بھی کیلسیم کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کافی حربے موجود ہیں۔ کوشش کی جانی چاہیے کہ اگر کسی وٹامن اور منرل کا قدرتی ذریعہ موجود ہے تو اس کو اپنے استعمال میں لایا جائے لیکن بسا اوقات الرجی اور حساسیت کے باعث کچھ لوگ قدرتی ذخائر سے مستفید نہیں ہو پاتے اس صورت حال میں سپلیمنٹ استعمال کرنے چاہییں۔ اور سپلیمنٹ خریدتے وقت ڈبے پر درج ایک گولی میں کیلسیم کی مقدار لازمی دیکھنی چاہیے کیونکہ ہمارا جسم کم مقدار میں (500ایم جی-600ایم جی) کیلسیم ذیادہ اچھے سے جذب کر سکتا ہے۔ 

 

وٹامن ڈی اور کیلسیم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں کیونکہ کیلسیم کو جسم میں جذب ہونے کیلئے وٹامن ڈی لازمی طور پر چاہیئے ہوتا ہے۔ وٹامن ڈی کے تین بہترین ذرائع میں سورج کی روشنی، خوراک اور سپلیمنٹ شامل ہیں۔ اس کی قدرتی ذرائع میں واضح کمی ہمیں سپلیمنٹ لینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ لیکن چند اشیاء جیسا کہ سیلمون مچھلی، ٹونا اور میکیرل مچھلیوں میں کافی مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ مالٹے کے جوس، دودھ اور متعلقہ اشیاء اور اناج میں بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی بندہ کیلسیم کی کمی کو سپلیمنٹ کے ذریعے پورا کر رہا ہے تو ضروری ہے کہ وہ وٹامن ڈی کو بھی سپلیمنٹس کے ذریعے لینا شروع کرے کیونکہ یہ دونوں مل کر جاذبیت کو کافی حد تک بڑھاتے ہیں اور دونوں کو مختلف اوقات میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ 

 

مندرجہ بالا تدابیر کو زندگی میں شامل کر کے ہم لوگ کیلسیم کی کمی سے بآسانی چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی خدشاتی عنصر کا شکار ہے تو اپنے خون میں کیلسیم کی مقدار معلوم کرنے کیلئے آج ہی شفا فار یو کے پلیٹ فارم سے لیبز آرڈر کریں اور پائیں بہترین رزلٹس۔

Recommended Packages

Uzair Arshad

Uzair is a medical student of the penultimate year of MBBS in Allama Iqbal Medical College, Lahore. He is always interested in making things easy that are relatively difficult. Exploration is another catchy half and reading is a cup of tea.