ریسٹ لیس لیگ سنڈروم

ریسٹ لیس لیگ سنڈروم

 
اس بیماری میں انسان بے چینی اور بے سکونی کے باعث اپنی ٹانگیں بار بار ہلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ بسا اوقات اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے کہ روز مرہ کے معمولات میں بھی دشواری آنے لگتی ہے۔ اس کی صحیح وجہ تو شاید ابھی بھی صیغہ راز میں ہے مگر جینیاتی عناصر، آئرن کی کمی، اعصابی کمزوری اور حمل کو اس کی وجہ اختراع میں لکھا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیماری کسی مہلک اثرات کا باعث تو نہیں بنتی مگر بذات خود کسی وبال جان سے کم نہیں۔ 
 

علامات: 

اس بیماری میں انسان اپنی ٹانگوں پر مختلف اقسام کی حساسیت محسوس کرنے لگتا ہے جیسا کہ درد کا احساس، کسی چیز کے چلنے یا خارش کا احساس اور جلنے کی کیفیات قابل ذکر ہیں۔ یہ احساسات انسان کو اپنی ٹانگ ہلانے پر مجبور کر دیتے ہیں جس سے ان میں کمی آ جاتی ہے۔ یہ علامات آتی جاتی رہتی ہیں۔ عموما رات کے وقت یا آرام کر وقت انسان ان احساسات کا شکار ہو جاتا ہے جو حرکات کرنے سے کم محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یہ بیماری عموما بچوں کو متاثر کرتی ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ مزید سنگین ہوتی جاتی ہے۔ 
 

خدشاتی عناصر: 

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ اس بیماری کی ایک وجہ آئرن کی کمی بھی ہے۔ اگر کسی مریض میں ماہواری کے دوران بہت ذیادہ خون آنے، گردوں کی بیماری، یا اندرونی مسائل کی وجہ سے خون کی کمی مثلا معدے میں زخم کے باعث خون کے رسنے اور نتیجتا آئرن کی کمی کی شکایت موجود ہے تو آپ اس بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ پرییفرل نیوروپیتھی بذات خود بھی عجیب احساسات کا باعث بنتی ہے اور اس کی وجہ سے ریسٹ لیس لیگ سنڈروم کا خدشہ بھی مزید بڑھ جاتا ہے۔ پرییفرل نیوروپیتھی عام طور پر شوگر کے مریضوں میں پائی جاتی ہے لہذا وہ لوگ بھی ترجیحی طور پر اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند جینیاتی معاملات رکھنے والے افراد اور خواتین بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 
 

علاج: 

ریسٹ لیس لیگ سنڈروم کی شدت ہر انسان میں مختلف ہو سکتی ہے۔ شدید طرز میں انسان ڈپریشن اور نیند کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی بے اختیار حرکات کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ بروقت علاج ان خطرناک مسائل سے نجات دلا سکتا ہے۔ دیگر وجوہات کو دیکھنے کے بعد اگر کسی میں اس بیماری کی تشخیص ہوتی ہے تو اس کے لیے کئی علاج موجود ہیں۔ گاباپینٹین، پری۔گابالن، روپنرول اور پریمیپکسول وہ ادویات ہیں جو اس کے علاج میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اوپییٹس اور نیند بہتر کرنے والی ادویات بھی دی جاتی ہیں تاکہ انسان بہتر محسوس کر سکے۔ میگنیسیم بھی ایک بغیر کسی ڈاکٹر کی پرچی پر ملنے والی ایک ایسی دوا ہے جو کافی کارگر ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس بیماری کی ایک وجہ میگنیسیم میں کمی بھی ہے۔ 
 
 

Recommended Packages

Uzair Arshad

Uzair is a medical student of the penultimate year of MBBS in Allama Iqbal Medical College, Lahore. He is always interested in making things easy that are relatively difficult. Exploration is another catchy half and reading is a cup of tea.